رات 3 بج کر 17 منٹ پر آنے والی کال

”اگر کبھی رات کے 3 بج کر 17 منٹ پر آپ کے فون پر ایسی کال آئے جس میں دوسری طرف سے آپ ہی کی آواز سنائی دے… تو خدا کے لیے فون مت اٹھائیے گا۔“

مجھے معلوم ہے یہ بات سننے میں کسی فلم یا ہارر کہانی جیسی لگتی ہے۔ لیکن جس رات یہ سب میرے ساتھ ہوا، اس رات کے بعد میں نے کبھی 3 بج کر 17 منٹ کو معمول کا وقت نہیں سمجھا۔

یہ واقعہ تقریباً دو سال پرانا ہے۔ اور آج بھی جب رات کو اچانک میری آنکھ کھلتی ہے، سب سے پہلے میری نظر موبائل کی اسکرین پر جاتی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وقت کیا ہوا ہے۔

کیونکہ کبھی کبھی انسان کسی بھوت سے نہیں ڈرتا… وہ صرف اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں ماضی دوبارہ فون نہ کر دے۔

نوٹ: یہ کہانی ایک حقیقی واقعے سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔ رازداری کے پیش نظر تمام کرداروں کے نام، مقامات اور بعض حالات تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

وہ پہلی کال

اس وقت میری عمر تقریباً پچیس سال تھی۔ میں ایک مصروف شہر میں اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ رہتی تھی۔ ہماری زندگی بالکل عام تھی۔ دن دفتر، گھر کے کام، دوستوں کے پیغامات اور رات کو موبائل دیکھتے دیکھتے نیند۔

مجھے بھوتوں، جنات یا آسیب جیسی چیزوں پر خاص یقین نہیں تھا۔ بلکہ سچ کہوں تو میں ان کہانیوں پر ہنسا کرتی تھی۔

پھر ایک رات…

رات کے تقریباً 3:17 بجے میرا فون بجا۔ میں گہری نیند میں تھی۔ پہلے تو میں نے فون کو دیکھا بھی نہیں۔ پھر دوسری مرتبہ کال آئی۔ میں نے آنکھیں کھولیں۔ اسکرین پر Unknown Number لکھا تھا۔

میں نے کال کاٹ دی۔ چند سیکنڈ بعد پھر فون بجا۔ اس مرتبہ مجھے غصہ آیا۔ میں نے کال اٹھائی۔

” ? Hello  “

دوسری طرف خاموشی تھی۔

” Hello؟ کون بات کر رہا ہے؟“

پھر… ایک بہت ہلکی سی آواز آئی۔

”سو جاؤ…“

میرا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ کیونکہ وہ آواز… میری اپنی آواز تھی۔

میں نے فوراً فون بند کر دیا۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید میں نیند میں تھی۔ شاید آواز کا وہم ہوا ہوگا۔

میں نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ لیکن تقریباً دس سیکنڈ بعد ایک نوٹیفکیشن آئی۔ ایک وائس میسج۔ اسی نامعلوم نمبر سے۔

میرے ہاتھ کانپنے لگے۔ میں نے میسج نہیں کھولا۔ پھر ایک اور میسج آیا۔ اس کے بعد تیسرا۔ میں نے فون Airplane Mode پر کر دیا اور کسی طرح سو گئی۔

اگلی صبح

صبح اٹھ کر سب سے پہلے میں نے وہ میسجز دیکھے۔ پہلے وائس نوٹ کی مدت صرف 7 seconds تھی۔ میں نے ہیڈفونز لگائے اور Play کیا۔

پہلے چند سیکنڈ میں صرف خاموشی تھی۔ پھر میری آواز سنائی دی۔

” تم نے دروازہ کیوں نہیں کھولا؟“

میں نے فوراً ہیڈفونز اتار دیے۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کون سا دروازہ؟ اور کون سی بات؟

میں نے نمبر دوبارہ دیکھا۔ وہ نمبر میرے کانٹیکٹس میں نہیں تھا۔ میں نے اسے بلاک کر دیا۔ میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ مجھے ڈر تھا کہ سب میرا مذاق بنائیں گے۔ اور شاید میں خود بھی اسے ایک عجیب اتفاق سمجھنا چاہتی تھی۔

لیکن اسی رات… 3:17 پر دوبارہ کال آئی۔

اس مرتبہ میں نے فون نہیں اٹھایا۔ کال تقریباً ایک منٹ تک آتی رہی۔ پھر بند ہوگئی۔ صبح اٹھ کر میں نے کال لاگ دیکھا۔ کال کے ساتھ ایک اور چیز لکھی تھی:

Call duration: 00:00

حالانکہ مجھے یقین تھا کہ فون تقریباً ایک منٹ تک بجتا رہا تھا۔

تصویر

تیسری رات کچھ زیادہ عجیب ہوا۔ رات کو سونے سے پہلے میں نے اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کیا۔ موبائل چارجنگ پر لگایا اور سو گئی۔

3:17 پر فون دوبارہ بجا۔ اس بار میں نے آنکھیں کھولیں تو فون کی اسکرین پر ایک تصویر کی نوٹیفکیشن نظر آئی۔ نامعلوم نمبر سے ایک تصویر موصول ہوئی تھی۔

میں نے تصویر کھولی۔ اور میرے جسم سے جیسے جان نکل گئی۔ وہ میرے کمرے کی تصویر تھی۔ وہی پردہ۔ وہی بیڈ۔ وہی لیمپ۔ وہی کرسی۔

اور تصویر میں… میں خود سو رہی تھی۔

تصویر بالکل میرے بیڈ کے سامنے سے لی گئی تھی۔ میرا پہلا خیال یہی تھا کہ شاید کوئی گھر کے اندر ہے۔ میں نے فوراً کمرے کی طرف دیکھا۔ دروازہ بند تھا۔

میں نے موبائل اٹھایا اور اپنی والدہ کو کال کرنے کی کوشش کی۔ اسی لمحے ایک میسج آیا:

“دروازہ مت کھولنا۔”

میں ساکت رہ گئی۔ پھر دوسری لائن آئی:

“وہ تمہاری ماں نہیں ہے۔”

دروازے پر دستک

اسی لمحے… میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

میں نے سانس روک لی۔ پھر باہر سے میری والدہ کی آواز آئی۔

”بیٹا؟ دروازہ کھولو۔“

میں نے جواب نہیں دیا۔ دوبارہ آواز آئی۔

”بیٹا، طبیعت ٹھیک ہے؟“

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں اپنی ماں کی آواز پہچانتی تھی۔ لیکن میرے فون پر ابھی بھی وہ میسج موجود تھا: ” وہ تمہاری ماں نہیں ہے۔

میں نے دروازہ نہیں کھولا۔ چند سیکنڈ بعد دستک بند ہوگئی۔ پھر باہر سے کوئی آواز نہیں آئی۔

میں پوری رات بیڈ پر بیٹھی رہی۔ صبح تقریباً چھ بجے میں نے دروازہ کھولا۔ باہر کوئی نہیں تھا۔ لیکن فرش پر… میرا موبائل چارجر پڑا تھا۔ وہ چارجر جو رات کو میرے بیڈ کے پاس لگا ہوا تھا۔

وہ راز جو مجھے نہیں جاننا چاہیے تھا

اگلے دن میں نے اپنی والدہ سے رات والی بات پوچھی۔ انہوں نے عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا۔

”میں تو رات کو سو رہی تھی۔“

میں خاموش ہوگئی۔

”آپ میرے کمرے کے دروازے پر آئی ہی نہیں تھیں؟“

انہوں نے سر ہلا دیا۔”نہیں“۔

میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا۔ لیکن اسی دن میں نے اپنے گھر کے بارے میں پرانی معلومات تلاش کرنا شروع کر دیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ ہم سے پہلے اس گھر میں ایک خاندان رہتا تھا۔ اس خاندان میں ایک لڑکی تھی۔ اس کا نام مریم تھا۔

مریم کے بارے میں پڑوسیوں نے بتایا کہ وہ کئی سال پہلے ایک رات اچانک غائب ہوگئی تھی۔ کسی کو معلوم نہیں ہوا کہ وہ کہاں گئی۔ اس کے والدین نے گھر چھوڑ دیا تھا۔

اور عجیب بات یہ تھی کہ… مریم کے غائب ہونے کی رات بھی گھر کے لوگوں نے 3:17 کا وقت بتایا تھا۔

میں نے یہ بات سنی تو میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔ لیکن اصل خوف ابھی باقی تھا۔

پرانا فون

میرے بھائی کو گھر کی صفائی کے دوران ایک پرانا ڈبہ ملا۔ ڈبے کے اندر ایک بہت پرانا موبائل فون تھا۔ اس میں بیٹری نہیں تھی۔ لیکن جب ہم نے اسے چارج کیا تو وہ حیرت انگیز طور پر آن ہوگیا۔

فون کے اندر صرف چند تصاویر اور کچھ آڈیو ریکارڈنگز تھیں۔ ہم نے پہلی ریکارڈنگ چلائی۔ کچھ سیکنڈ تک خاموشی تھی۔ پھر ایک لڑکی کی آواز آئی۔

”اگر کوئی یہ سن رہا ہے تو میری بات غور سے سننا…“

میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ مریم تھی۔ اس نے بتایا کہ کچھ دنوں سے ہر رات اسے ایک نامعلوم نمبر سے کال آتی تھی۔ اور ہر کال میں… اس کی اپنی آواز اسے خبردار کرتی تھی۔

وہ آواز اسے مختلف چیزوں سے بچنے کے لیے کہتی تھی۔ ایک رات اسے کہا گیا:

” 3:17 پر دروازہ مت کھولنا۔“

لیکن مریم نے دروازہ کھول دیا۔ اس کے بعد ریکارڈنگ ختم ہوگئی۔

آخری وائس نوٹ

فون میں صرف ایک آخری ریکارڈنگ باقی تھی۔ ہم نے اسے چلایا۔ اس بار مریم رو رہی تھی۔ وہ بہت آہستہ بول رہی تھی۔

” اگر یہ ریکارڈنگ کسی کو ملے… تو میری ایک بات یاد رکھنا…“

چند سیکنڈ خاموشی رہی۔ پھر اس نے کہا:

”کبھی کبھی جو آواز ہمیں بچانے آتی ہے، وہ ڈرانے کے لیے نہیں ہوتی…“

پھر اس نے ایک ایسی بات کہی جس نے میری سوچ بدل دی۔

” ہم اکثر کسی خطرے سے اس لیے نہیں بچتے کہ ہمیں کوئی نظر آ جاتا ہے… ہم اس لیے بچتے ہیں کیونکہ ہم نے پہلی وارننگ پر یقین کر لیا ہوتا ہے۔“

ریکارڈنگ ختم ہوگئی۔

وہ آخری رات

اس واقعے کے بعد ہم نے وہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جانے سے ایک رات پہلے… 3:17 پر میرا فون پھر بجا۔ نامعلوم نمبر۔

اس مرتبہ میں نے کال اٹھائی۔ دوسری طرف میری ہی آواز تھی۔ لیکن اس بار وہ آواز بہت کمزور تھی۔

“تم جا رہی ہو نا؟”

میں خاموش رہی۔ پھر آواز آئی:

“اچھا ہے۔”

میں نے پہلی مرتبہ پوچھا: “تم کون ہو؟”

کچھ سیکنڈ خاموشی رہی۔ پھر جواب آیا:

”وہی… جس نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔“

میری سانس رک گئی۔ ”مریم؟“

فون کے دوسری طرف کوئی جواب نہیں آیا۔ صرف ایک آخری جملہ سنائی دیا:

”اب کسی اور کو بچانا ہے۔“

کال ختم ہوگئی۔ اسی لمحے موبائل کی اسکرین پر وقت بدل کر 3:18 ہوگیا۔ اور اس کے بعد… کبھی 3:17 پر کوئی کال نہیں آئی۔

دو سال بعد

ہم نے وہ گھر چھوڑ دیا۔ نئے گھر میں زندگی دوبارہ معمول پر آگئی۔ میں نے اس واقعے کو تقریباً بھلا دیا تھا۔ لیکن کچھ چیزیں انسان بھولتا نہیں۔ وہ صرف انہیں اپنے ذہن کے کسی کونے میں بند کر دیتا ہے۔

تقریباً دو سال بعد ایک رات میری ایک پرانی دوست کا میسج آیا۔ اس نے لکھا:

”تمہیں ایک عجیب بات بتاؤں؟“

میں نے پوچھا:”کیا؟“

اس نے کہا: ” میں جس نئے گھر میں شفٹ ہوئی ہوں، وہاں رات کو عجیب کالز آتی ہیں۔ “

میں نے مذاق میں پوچھا: ” کس وقت؟“

اس کا جواب آیا: ” 3:17. “

میرے ہاتھ سے موبائل تقریباً گر گیا۔ میں نے فوراً اسے کال کی۔ لیکن اس نے کال نہیں اٹھائی۔ میں نے میسج کیا:

”اگر نامعلوم نمبر سے کال آئے تو مت اٹھانا۔“

کافی دیر تک کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر… ایک وائس میسج آیا۔ میں نے اسے چلایا نہیں۔ کیونکہ وائس میسج بھیجنے والا نمبر… وہی نامعلوم نمبر تھا۔

اور اس کے بعد سے میں نے ایک اصول بنا لیا ہے۔ رات کے وقت اگر کوئی نامعلوم نمبر کال کرے… میں اسے کبھی جواب نہیں دیتی۔ چاہے فون کتنی ہی دیر کیوں نہ بجتا رہے۔

آخر میں ایک بات…

آج بھی مجھے نہیں معلوم کہ اس رات میرے ساتھ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ کیا وہ مریم تھی؟ کیا وہ کوئی مافوق الفطرت چیز تھی؟ یا پھر ان سب واقعات کے پیچھے کوئی ایسی حقیقت تھی جسے ہم سمجھ نہیں سکے؟ میرے پاس ان سوالوں کا کوئی یقینی جواب نہیں۔

لیکن ایک چیز ضرور سمجھ آئی:

ہر وارننگ کو وہم سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

زندگی میں کچھ خطرے ایسے ہوتے ہیں جن کا ہمیں پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ کبھی کسی دوست کی ایک بات سے۔ کبھی والدین کی نصیحت سے۔ کبھی دل میں پیدا ہونے والی ایک عجیب سی بے چینی سے۔ اور کبھی… صرف ایک چھوٹی سی آواز سے جو کہتی ہے:

” مت جاؤ۔“

ہم اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ ہمیں اس کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ لیکن شاید ہر وارننگ کے پیچھے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی… بچ جانا ہی سب سے بڑا جواب ہوتا ہے۔


سبق:

اپنی اندرونی کیفیت اور خطرے کی ابتدائی علامات کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیں۔ ہر چیز کو فوراً خوف، وہم یا اتفاق کہہ کر نظر انداز کرنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات وقت پر رک جانا ہی انسان کو ایسے انجام سے بچا لیتا ہے جس کا اسے کبھی علم بھی نہیں ہوتا۔

 

Comments

Popular posts from this blog

Your Phone Knows More About You Than You Think: How AI Is Changing Your Life

رات کی آخری بس میں بیٹھا مسافر

The Hidden Cost of Social Media | Effects on Young People