وائرل ویڈیو میں موجود لڑکی حقیقت میں وہ تھی ہی نہیں — اے آئی اور ڈیپ فیک کی کہانی
ایک ویڈیو، ایک چہرہ، اور ایک ایسا راز جس نے سب کچھ بدل دیا… رات کے 11 بج کر 47 منٹ پر ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہوئی۔ صبح ہونے تک ہزاروں لوگ اسے دیکھ چکے تھے۔ اور دوپہر تک ایک عام سی لڑکی کی زندگی بدل چکی تھی۔ باب اول: رات 11 بج کر 47 منٹ کراچی کی رات ہمیشہ کی طرح جاگ رہی تھی۔ سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کا شور، دور سے آتی گاڑیوں کے ہارن اور بارش کے بعد گیلی سڑکوں پر پڑتی روشنیوں کے عکس، شہر کو کسی فلم کا منظر بنا رہے تھے۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں بائیس سالہ عریبہ اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی ایک ویڈیو ایڈٹ کر رہی تھی۔ وہ کوئی مشہور شخصیت نہیں تھی۔ اس کے سوشل میڈیا پر صرف 1,842 فالوورز تھے، اس کے پاس ایک پرانا کیمرہ تھا، اور اس کی سب سے بڑی خواہش ایک فلم میکر بننا تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بناتی، انہیں ایڈٹ کرتی اور پھر اس امید کے ساتھ اپلوڈ کر دیتی کہ شاید کوئی ان میں چھپی کہانی کو سمجھ سکے۔ اس رات بھی اس نے کراچی کی بارش کے بعد کی خوب صورتی پر ایک مختصر ویڈیو بنائی۔ : ویڈیو مکمل ہوئی تو اس نے کیپشن لکھا ‘‘ کچھ شہر کبھی نہیں سوتے، اور کچھ خواب کبھی مرنے نہیں دیتے۔ ’’ اس ن...